Skip to main content
نعت

تکیں گی حسرتیں حیرت سے منہ ہم ناسزاؤں کا

By August 20, 2021No Comments

تکیں گی حسرتیں حیرت سے منہ ہم ناسزاؤں کا
کھلے گا منہ جو محشر میں شفاعت کے خزانوں کا


تسلی آپ خود فرمائیں گے ہم سے غلاموں کی
انہیں کیوں کر گوارا رنج ہوگا سوگواروں کا


دم آخر مدینے کی طرف منہ پھیرلیتے ہیں
تخیّل کتنا پاکیزہ ہے ان کے تشنہ کاموں کا


الہٰی آج تو پیشانیوں کی لاج رہ جائے
چلا ہے قافلہ طیبہ کو پھر آشفتہ حالوں کا


لرزتا ہو نظام ایں و آں جس کے اشارے پر
نمونہ حشر کو کیا کہئے اس گل کی اداؤں کا


کہیں گرنے کو ہوتے ہیں تو قدرت تھام لیتی ہے
نصیبہ تو کوئی دیکھے کسی کے بے قراروں کا


شفاعت کے لئے راہیں ہُویدا کیجئے یعنی
تصور باندھئے ان کی کرم پرور نگاہوں کا


خزانے یہ لٹا دیتے ہیں جب دینے پہ آتے ہیں
زمیں سے آسماں تک شور ہے ان کی عطاؤں کا


اشارہ ان کا ہوجائے کبھی وہ دن خدا لائے
کہ عالم ہم بھی جا دیکھیں مدینے کی فضاؤں کا


توجہ سنّیوں پر کیوں کر نہ ہو بارہ اماموں کی
کہ دامن ہاتھ میں آیا ہے ان کے چار یاروں کا


دعا کیجئے خلیؔل آواز یہ بغداد سے آئے
کہ جا ہم نے کیا تجھ کو غلام اپنے غلاموں کا

Was this article helpful?
YesNo