Skip to main content
نعت

شاہ کونین جلوہ نما ہوگیا

By September 7, 2021No Comments

شاہ کونین جلوہ نما ہوگیا
رنگ عالم کا بالکل نیا ہوگیا

منتخب آپ کی ذات والا ہوئی
نامِ پاک آپکا مصطفیٰ ہوگیا

مل گیا تجھ سے اللہ کا راستہ
حق سے ملنے تو واسطہ ہوگیا

آپ وہ نور حق ہیں کہ قرآن میں
وصف رخ آپ کا والضحےٰ ہوگیا

ایسا اعزاز کس کو خدا نے دیا
جیسا بالا ترا مرتبہ ہوگیا

لا مکاں میں بلایا خدا نے تجھے
عرش و کرسی سے بھی تو ورا ہوگیا

ایسی نافذ تمہار ی حکومت ہوئی
تم نے جس وقت جو کچھ کہا ہوگیا

مہ دوپارہ ہوا سورج الٹا پھرا
جب اشارہ تمہارا ذرا ہوگیا

کن کی کنجی نہ کیوں کر ہوتیری زباں
حکم رحمٰن تیرا کہا ہوگیا

لب عیسیٰ سے ظاہر تھا جو معجزہ
تیری ٹھوکر سے مولیٰ ادا ہوگیا

سیر کر جائیں آکر جناب مسیح
شہر طیبہ بھی دار الشفا ہوگیا

خاک روضہ کی کحل الجواہر ہوئی
تاجِ شاہاں ترا نقش پا ہوگیا

آتشِ عشقِ مولیٰ سے جو دل تپا
میل سے صاف ہوکر کھرا ہوگیا

جس نے نظارۂ سبز گنبد کیا
اس کا پورا ہر اک مدعا ہوگیا

ہم بھی طیبہ کو اڑ جائیں گے ایک دن
ناز کیوں تجھ کو باوِ صبا ہوگیا

تیری ہی نور سے دونوں عالم بنے
تو ہی تو ابتدا انتہا ہوگیا

اس نے واللہ اللہ کو پالیا
جو کوئی تجھ پہ دل سے فدا ہوگیا

حق تعالیٰ کا وہ بندۂ خاص ہے
سچے دل سے جو بندہ تیرا ہوگیا

پار گرداب عصیاں سے کیوں کر نہ ہو
جس کی کشتی کا تو ناخدا ہوگیا

تیرے صدقے کہ ہردرد و غم میں تو ہی
نام لیووں کا مشکل کشا ہوگیا

نام نامی ترا نام حق یا نبی
نا توانوں کے حق میں عصا ہوگیا

اس کو فرصت غمِ دو جہاں سے ملی
جو بھی دل سے غلا م آپ کا ہوگیا

روسیاہوں کو کوئی نہیں پوچھتا
ہاں بھروسہ تری ذات کا ہوگیا

عاصیوں کا نہیں کوئی پرسان حاں
اک سہارا فقط آپ کا ہوگیا

روز محشر ہر اک نام لیوا ترا
اک اشارے میں ترے رہا ہوگیا

لو مبارک تمہارے لیے عاصیو
باب رحمت محمد کا و ا ہوگیا

خلق کیوں کر نہ اس کو کہے تاجدار
جو ترے آستاں کا گدا ہوگیا

سرور وں کی اسے سروری مل گئی
تیرے روضہ پہ جو سر فدا ہوگیا

کیوں نہ حاصل ہو اس کو حیات ابد
روضۂ پاک پہ جو فنا ہوگیا

یا نبی تیری چوکھٹ پہ عشاق کو
موت اور زندگی کا مزا ہوگیا

کچھ بشر ہی نہیں بلکہ جن و ملک
سب کو صدقہ تمہارا عطا ہوگیا

واہ وا تیری عزت کہ تیرے سبب
تیری امت پہ فضلِ خدا ہوگیا

نام تیراشہا ہر مرض کے لیے
نام لیووں کو تیرے و واہوگیا

داغ الفت کی ایسی بڑھی تازگی
زخم دل کا ہمارے ہرا ہوگیا

گور میں حشر میں داغ عشق نبی
غیرت شمس و بدر الدجے ہوگیا

نام تیرا دمِ نزع جس نے لیا
اس کا ایماں پر خاتمہ ہوگیا

دشمن و دست مفلس غریب و امیر
تیرے صدقہ میں سب کا بھلا ہوگیا

علم غیب نبی کا جو منکر ہوا
قہر قہار میں مبتلا ہوگیا

دیکھ آئینہ نجدی کہ توہین سے
تیرا چہرہ تو الٹا تو ہوگیا

ناز کر اے جمؔیل اپنی قسمت پہ تو
خاک نعلین احمد رضا ہوگیا

قبالۂ بخشش

Leave a Reply