Skip to main content
نعت

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے

By September 1, 2021No Comments

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گھٹری تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے

یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مت کیسی متوالی ہے

سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اٹھ پیارے
تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نرالی ہے

آنکھیں ملنا جھنجھلا پڑنا لاکھوں جمائی انگڑائی
نام پر اٹھنے کے لڑتا ہے اٹھنا بھی کچھ گالی ہے

جگنو چمکے پتّا کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑ کے
ڈر سمجھائے کوئی پون ہے یا اگیا بیتالی ہے

بادل گرجے بجلی تڑپے دَھک سے کلیجا ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے

پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منھ
مینھ نے پھسلن کردی ہے اور دُھر تک کھائی نالی ہے

ساتھی ساتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے
پھر جھنجھلا کر سر دے پٹکوں چل رے مولیٰ والی ہے

پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے

تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو
دیکھو مجھ بے کس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے

دنیا کو تو کیا جانے یہ بِس کی گانٹھ ہے حرّافہ
صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے

شہد دکھائے زہر پلائے قاتل ڈائن شوہر کُش
اس مُردار پہ کیا للچایا دنیا دیکھی بھالی ہے

وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنّت کا
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے

مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضؔا سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے

حدائقِ بخشش

Was this article helpful?
YesNo