Skip to main content
نعت

سوادِ شب میں ملے، مطلعِ سحر میں ملے

By August 23, 2021No Comments

سوادِ شب میں ملے، مطلعِ سحر میں ملے
تم اے جمالِ خدا شمس میں قمر میں ملے


گدا نوازئ محبوب اور کیا ہوگی
وہ دیکھنے سے بھی پہلے مجھے نظر میں ملے


ہے ایک جاں سے قریں اک رگِ گلو کے قریب
تلاش جن کی تھی باہر، مجھے وہ گھر میں ملے


تھی قدسیوں کی جبیں کی چمک دمک جن میں
نشان ایسے بھی طیبہ کی رہگذر میں ملے


تلاشِ منزلِ اوجِ نبیﷺ بھی کیا شَے ہے
شریک آدم و عیسٰی بھی اس سفر میں ملے


جو آپ عین خبر ہے وہ مبتدا تم ہو
وہ تم خبر ہو کہ خود مبتدا خبر میں ملے


وہ خارِ دشتِ حرم لے اُڑے ہوا جس کو
الہٰی کاش وہ میرے دل و جگر میں ملے


ہے اب حضورﷺ کا در اور اختؔر سائل
بھلا کسی سے طلب کیوں کروں جو گھر میں ملے

Was this article helpful?
YesNo