Skip to main content
نعت

سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا

By September 7, 2021No Comments

سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا
ہر شے پہ لکھا ہے نام ترا ترےذکر کی رفعت کیا کہنا

ہے سر پر تاج نبوت کا جوڑا ہے تن پہ کرامت کا
سہرا ہے جبیں پہ شفاعت کا امت پہ ہے رحمت کیا کہنا

اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرْ فرمائے ترے حق میں واور
وحدت کا کیا تجھ کو مظہر اور دی ہے کثرت کیا کہنا

معراج ہوئی تا عرش گئے حق تم سے ملا تم حق سے ملے
سب راز فاوحیٰ دل پہ کھلے یہ عزت و حشمت کیا کہنا

حوروں نے کہا سبحان اللہ غلماں نے پکارا صلی اللہ
اور قدسی بولے الا اللہ ہے عرش پہ دعوت کیا کہنا

قرآن کلام باری رہے اور تیری زباں سے جاری ہے
کیا تری فصاحت پیاری ہے اور تیری بلاغت کیا کہنا

باتوں سے ٹپکتی لذت ہے آنکھوں سے برستی رحمت ہے
خطبے سے چمکتی ہیبت ہے اے شاہ رسالت کیا کہنا

سب مثل ہتھیلی پیش ِنظر ہر غیب عیاں ہے سینے پر
یہ نور نظر یہ چشم بصر یہ علم و حکمت کیا کہنا

ہو حسن نبی کی کیسے صفت جس کی ہے خدا کو بھی چاہت
والشمس چمک طہ رنگ پھر اس میں ملاحت کیا کہنا

ہر ذرہ ترا دیوانہ ہے ہر دل میں ترا کاشانہ ہے
ہر شمع تری ہروانہ ہے اے شمع ہدایت کیا کہنا

صدیق و عمر عثمان و علی اور ان کے سوا اصحاب نبی
قربان رہے آقا پہ سبھی کی خوب رفاقت کیا کہنا

صدیق ہیں جان صداقت کی فاروق ہیں شان عدالت کی
عثمان ہیں کان مروت کی حیدر کی ولایت کیا کہنا

دو پھول بتولی گلشن کے اک سبز ہوئے اک سرخ ہوئے
بغداد و عرب جن سے مہکے ان پھولوں کی نکہت کیا کہنا

گیسوئے کرم کھلجائیں اگر رحمت کی گھٹا برسے جم کر
پیا سے یہ کہیں خوش ہو ہوکر اے ابر رحمت کیا کہنا

آنکھوں سے کیا دریا جاری اور لب پہ دعا پیاری پیاری
رو رو کے گزاری شب ساری اے حامی امت کیا کہنا

عالم کی بھریں ہر دم جھولی خود کھائیں توبس جو کی روٹی
وہ شان عطا و سخاوت کی یہ زہدو قناعت کیا کہنا

شہرت ہے جمیل اتنی تیری یہ سب ہے کرامت مرشدکی
کہتے ہیں تجھے مداح نبی سب اہل سنت کیا کہنا

قبالۂ بخشش