سرورِ دنیا و دیں میری مدد فرمائیےرحمت للّعالمیں میری مدد فرمائیے
عاصی و خاطی سہی، نادم ہے برہاںؔ آپ کایا شفیع المذنبیں میری مدد فرمائیے
کشتئ مسلم تلاطم میں پھنسی فریاد ہےیاانیس المسلمیں میری مدد فرمائیے
مومن ناچار پر ہے اژدھامِ بے کسییا معین المؤمنیں میری مدد فرمائیے
ظلمتوں کا ہے تسلّط، پُر خطر ہے راستہاے سراج السالکیں میری مدد فرمائیے
میرے اعمالِ سیہ، پھر قبر کی ظلمت غضبنور انور، مہ جبیں میری مدد فرمائیے
حُسنِ نور افروز سے عالم کو روشن کردیااے حسینوں کے حسیں، میری مدد فرمائیے
خستہ سل بُرہانؔ کب تک صدمۂ فرقت سہےیا مُراد الواصلین میری مدد فرمائیے