Skip to main content
نعت

ساقی مجھے وہ بادۂ کیف و سرور دے

By August 25, 2021No Comments

عیدِ نُور

ساقی مجھے وہ بادۂ کیف و سرور دے
دے حسن جو دماغ کو اور دل کو نور دے
روشن ہو جس سے ذہن وہ جامِ شعور دے
کوثر کی روح آج مِلا کر ضرور دے
مستی سی روح و قلب پہ چھائی ہوئی رہے
تا عمر جس کیف میں گم زندگی رہے
اُٹھی گھٹا وہ کعبہ کے پردوں سے جُھوم کر
وہ چھاگئی فلک پہ فضائیں گئیں نِکھر
ہے سرمدی سُرور کی بارش جہان پر
لا ایک جام اور پلا، ایک اور بھر
رِندوں کی آج عید ہے ، مستوں کی عید ہے
ساقی حرم کے بادہ پر ستوں کی عید ہے
لاوارثوں کی عید، یتیموں کی عید ہے
ٹوٹے دلوں کی، تیرہ نصیبوں کی عید ہے
مایوس و ناامید، غریبوں کی عید ہے
بیمار، بیکسوں کی، ضعیفوں کی عید ہے
ہے فیضیابِ رحمتِ پروردگار عید
یہ عید وہ ہے جس پہ تصدق ہزار عید
جنت کا ہے جواب گلستاں بنا ہوا
ہے چاندنی کا فرش چمن میں بچھا ہوا
غنچوں کا آبِ نور سے منہ ہے دُھلا ہوا
ہے عطرِ روحِ حُسن میں گُل بسا ہوا
ہے سامنے نگاہ کے نقشہ بہشت کا
ہوتا ہے صحنِ باغ پہ دھوکا بہشت کا
گم ہے سیاہ دَور، زمانہ ہے نور کا
عالَم تمام آج خزانہ ہے نور کا
پھر بلبلوں کے لب پہ ترانہ ہے نور کا
باہم دِگر زباں پہ فسانہ ہے نور کا
نوری سماں ہے عالَمِ صد کیف و نور ہے
کل کائنات غرقِ شرابِ سرور ہے
تاریکیوں کا دَور دلِ مضمحل گیا
چمکا نصیب گوہرِ مقصود مِل گیا
ملّت کے دل کا غنچۂ افسردہ کِھل گیا
ہستی کا چاک دامنِ امید سل گیا
وہ نورِ چشمِ آمنۂ﷞ پاکﷺ آگئے
دنیا میں آج سیّد ِ لولاکﷺ آگئے
ظلمت کدوں کو دہر کے اِک روشنی ملی
ہر مضمحل نگاہ کو تابندگی ملی
بیمار زندگی کو نئی زندگی مِلی
غم خوردہ و شکستہ دلوں کو خوشی ملی
فیضِ جمالِ ماہِ عرب آج عام ہے
مسرور و شاد کام زمانہ تمام ہے
دورِ سرور و کیف کی جلوہ گری ہوئی
کِشتِ امید سُوکھ چکی تھی، ہری ہوئی
زندہ ہے پھر ہر ایک تمنّا مَری ہوئی
ہے آج ہر فقیر کی جھولی بھری ہوئی
جاگے نصیب، روز مِلا عیدِ نور کا
صدقہ ہے یہ ولادتِ پاکِ حضورﷺ کا
سورج میں ‘ ماہتاب میں ‘ تاروں میں روشنی
گلزار میں، گلوں میں، بہاروں میں روشنی
قدرت کے دلنواز اشاروں میں روشنی
پھر آگئی تمام نظاروں میں روشنی
منظر نظر نواز، سماں بے نظیر ہے
روشن چراغِ حسنِ سراجِ منیر ہے
عہدِ سکوں و مہبطِ راحت ہے کائنات
جلوہ گہِ خلوص و محبت ہے کائنات
میخانۂ نشاط و مسرّت ہے کائنات
ہر خاص و عام کے لئے جنت ہے، کائنات
اب سلطنت ہے صاحبِ خلقِ عظیم کی
محبوبِ حق، جنابِ رؤف و رحیمﷺ کی
اللہ کے رسولﷺ، رسالت کا واسطہ
اے تاجدار، تاجِ شفاعت کا واسطہ
محبوبِ حق، نگاہِ محبت کا واسطہ
سرکار، روزِ عیدِ ولادت کا واسطہ
صدقہ رضؔا کا آج جو مانگوں وہی ملے
اختؔر کو اپنی کھوئی ہوئی زندگی ملے

Was this article helpful?
YesNo