Skip to main content
نعت

روشن ہے دو عالم میں مہ روئے محمد

By September 7, 2021No Comments

روشن ہے دو عالم میں مہ روئے محمد
کونین ہے عکس رخ نیکوئے محمد

تاباں ہے ہر اک شے میں رخ پاک کا جلوہ
ہر گل سے چلی آتی ہےخوشبوئے محمد

ظاہر یہ ہوا آیہ اللہ رمیٰ سے
ہے قوت حق طاقت بازوئے محمد

جب نائب و محبوب خدا آپ ہی ٹھہرے
پھر کیوں نہ ہو ہر چیز پہ قابوئے محمد

کعبے کی طرف کوئی نہ سر اپنا جھکا تا
جھکتا نہ اگر وہ سوئے ابروئے محمد

مخلوق ہے جو یائے رضا مندی خالق
اللہ تعالیٰ ہے رضا جوئے محمد

دیتی ہے دعاؤں سے تو ایذاؤں کا بدلہ
کیا خوب ہے عادت تری اے خوئے محمد

جب حشر میں کوئی بھی کرے گا نہ سفارش
گھبرائے ہوئے آئیں گے سب سوئے محمد

سب منتظرِ رحمت معبود ہیں لیکن
ہے داور محشر کی نظر سوئے محمد

ان پر نہ پڑیں کس لیے عالم کی نگاہیں
ہے داور محشر کی نظر سوئے محمد

برسے گی شفاعت کی بھرن امت شہ پر
جس وقت کھلے حشر میں گیسوئے محمد

مرجاؤں مدینے کے بیاباں میں الہٰی
ہونعش مری اور سگ کوئے محمد

تاریکی مرقد سے جو گھبرائے دل زار
پر نور بنائیں اسے گیسوئے محمد

جنت تو منائیگی چلو میری طرف کو
اور میں یہ کہوں گا کہ نہیں سوئے محمد

تب جان میں جانِ آئے جمیل رضوی کے
سگ اپنا بنائیں جو سگِ گوئے محمد

قبالۂ بخشش