Skip to main content
نعت

دیوانوں کا جشنِ عام

By August 13, 2021No Comments

جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
در حقیقت تیرے ﷺ دیوانوں کا جشنِ عام ہے


عظمتِ فرقِ شہِ کونین کیا جانے کوئی
جس نے چومے پائے اقدس ﷺ عرش اُس کا نام ہے


آ رہے ہیں وہ سرِ محشر شفاعت کے لیے
اب مجھے معلوم ہے جو کچھ مِرا انجام ہے


تو اگر چاہے تو پھر جائیں سیہ کاروں کے دن
ہاتھ میں تیرے عنانِ گردشِ ایّام ہے


روئے انور کا تصور زلفِ مشکیں کا خیال
کیسی پاکیزہ سحر ہے کیا مبارک شام ہے


دل کو یہ کہہ کر رہِ طیبہ میں بہلاتا ہوں میں
آ گئی منزل تِری، بس اور دو ،اک گام ہے


سا قیِ کوثرﷺ کا نامِ پاک ہے وردِ زباں
کون کہتا ہے کہ تحسیؔں آج تشنہ کام ہے

Leave a Reply