Skip to main content
نعت

دیدار رب تجھے ہوا تیری الگ ہی شان ہے

By August 29, 2021No Comments

تضمین برکلام امام   اہلسنت اعلی حضرت قدس سرہ

دیدار رب تجھے ہوا تیری الگ ہی شان ہے
پہونچے مکاں سے لامکاں اور لگا اک آن ہے
نکلی تھی دیکھنے کو حد حیران اب یہ جان ہے

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
جان مراد اب کدھر ہائے تیرا مکان ہے

کب سے طلب میں گشت ہے کب تک کرنگے انتظار
عاصی ہیں، ہیں تو تیرے ہی گرچہ ہیں ہم گناہگار
ان کا کرم جو ہو کبھی ہم بھی لگائیں یہ پکار

پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بے قرار
روکئے سرکو روکئے ہاں یہی امتحان ہے

رفعت میں ان کی حد ہے کیا ہم کو بتاؤ تو رضا
حیراں ہوں میں تو خود رضا کیا کیا کہوں تجھے شہا
یہ تو ہے صیغِ راز ہی ضد ہے تجھے تو سن ذرا

فرش پہ جاکے مرغ عقل تھک کے گرا غش آگیا
اور ابھی منزلوں پر ے پہلا ہی آستان ہے

پھرتی نسیم سحر ہے کس کی طلب ہیں گام گام
دریا کو جستجو ہے کیا کیوں پھر رہا ہےصبح و شام
تیری ہی فکر میں ہیں گم تیرا ہی ذکر اور نام

عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش پہ طرفہ دھوم دھام
کان جدھر لگائے تیری ہی داستاں ہے

دنیا کا حشر کا تجھے کیا کیا فاران خوف تھا
قبر ہے پل صراط بھی اعمال سے بھی ڈر ہوا
پھر جو اَنَا لَھَا سنا دل جھوم کر یہ بول اٹھا

خوف نہ رکھ رضا ذرا تو تو ہے عبدِ مصطفےٰ
تیرے لئے امان ہے تیرے لئے امان ہے

Was this article helpful?
YesNo