Skip to main content
نعت

دردِ دل چاہئے چشمِ تر چاہئے

By January 1, 2022September 9th, 2022No Comments

دردِ دل چاہئے چشمِ تر چاہئے
مجھ کو آقاﷺ کی پیاری نظر چاہئے

ہے منور ضیا سے یہ سارا جہاں
میرے دل کی تمنا ہے جانِ جہاں
سَب کے دل کی حقیقت ہے اُن پر عیاں
نور کی اک کرن اب ادھر چاہئے

سرورِ دو جہاںﷺ کا ہے بے حد کرم
مجھ کو آقاﷺ دکھاتے ہو اپنا حرم
ذاتِ والا سے قائم ہے میرا بھرم
آپﷺ کی دید کو چشمِ تر چاہئے

خود خدا نے بنایا ہے تمﷺ کو حبیب
مرضِ عصیاں سے اَب تو شفا ہو نصیب
اور اس نے بنایا ہے تمﷺ کو طبیب
سنتوں پر عمل عمر بھر چاہئے

یا نبیﷺ مجھ پہ ہو اک کرم کی نظر
کوئی حسنِ عمل تو نہیں ہے مگر
بارِ عصیاں سے اَب تو جھکی ہے کمر
مجھ کو بخشش کا ذادِ سفر چاہئے

بھیک علم و عمل کی عطا کیجئے
جامِ الفت مجھے اب پلا دیجئے
اپنی سنت کا پیکر بنا دیجئے
وقتِ آخر مجھے وہ نظر چاہئے

شرفِ خدمت عطا ہو غلاموں کو اب
خلد مسکن بنے اور راضی ہو ربﷺ
جتنے عشاق ہیں سب رہیں باادب
ہر دعا میں مِری وہ اثر چاہئے

جو مجاہد فلسطین میں ہیں شہاﷺ
خاک میں ظالموں کی ملے اب جفا
آس تمﷺ پر لگا کر ہی پائیں جلا
عاشقوں کیلئے اب ظفر چاہئے

مجھ کو آقاﷺ مدینے بلاتے رہیں
اپنا مہماں ہمیشہ بناتے رہیں
شاکرِؔؔ بے نوا کو نبھاتے رہیں
آخری وقت مجھ کو یہ در چاہئے

کلام:
مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری