Skip to main content
نعت

خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا

By September 7, 2021No Comments

خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا
جب رب ہے مصطفیٰ کا پھر اضطراب کیسا

مجرم ہوں رُو سیہ ہوں اور لائقِ سزا ہوں
لیکن حبیب کا ہوں مجھ پر عتاب کیسا ہو

سورج میں نور تیرا جلوہ تیرا قمر میں
ظاہر تو اس قدر ہے اس پر حجاب کیسا

دامانِ مصطفیٰ ہے مجرم مچل رہے ہیں
دار الاماں میں پہنچے خوفِ عذاب کیسا

مرقد کی پہلی شب ہے دولہا کی دید کی شب
اس شب پہ عید قربان اس کا جواب کیسا

پڑھتا تھا جس کا کلمہ پایا انہیں نکیرو
ہو لینے دو تصدّق اس دم حساب کیسا

سالکؔ کو بخش یا رب گو لائقِ سزا ہے
وہ کس حِساب میں ہے اس کا حساب کیسا

Leave a Reply