Skip to main content
نعت

جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں

By September 6, 2021No Comments

جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں
سرور دل میں ہو پیدا تو نور آنکھوں میں

ہٹادیں آپ اگر رخ سے اک ذرا پردہ
چمک نہ جائے ابھی برق طور آنکھوں میں

نظر کو حسرت پا بوس ہے مرے سرور
کرم حضور کریں پر ضرور آنکھوں میں

کھلے ہیں دیدۂ عشاق قبر میں یوں ہی
ہے انتظار کسی کا ضرور آنکھوں میں

خدا ہے تو نہ خدا سے جدا ہے اے مولیٰ!
ترے ظہور سے رب کا ظہور آنکھوں میں

وجود شمس کی برہاں ہے خود وجود اس کا
نہ مانے کوئی اگر ہے قصور آنکھوں میں

خدا سے تم کو جدا دیکھتے ہیں جو ظالم
ہے زیغ قلب میں ان کے فتور آنکھوں میں

نہ ایک دل کہ مہ و مہر، انجم و نرگس
ہے سب کی آرزو رکھیں حضور آنکھوں میں

امنڈ کے آہ نہیں آئے اشک ہائے خوں
یہ آرہا ہے دل ناصبور آنکھوں میں

حضور آنکھوں میں آئیں حضور دل میں سمائیں
حضور دل میں سمائیں حضور آنکھوں میں

غلاف چشم کے اٹھتے ہی آسمان گئے
نظر کے ایسے قوی ہیں طیور آنکھوں میں

نظر نظیر نہ آیا نظر کو کوئی کہیں
جچے نہ غلماں نظر میں نہ حور آنکھوں میں

ہماری جان سے زیادہ قریب ہو ہم سے
تمہیں قریب جو ہم کو ہے دور آنکھوں میں

جہاں کی جان ہیں وہ جان سے نہ کچھ منظور
عیاں ہے کف کی طرح نزد و دور آنکھوں میں

مے محبت محبوب سے یہ ہیں سر سبز
بھری ہوئی ہے شراب طہور آنکھوں میں

ہوا ہے خاتمہ ایمان پر ترا نوریؔ
جبھی ہیں خلد کے حور و قصور آنکھوں میں

سامانِ بخشش

Leave a Reply