Skip to main content
نعت

جس سے دونوں جہاں جگمگانے لگے گود میں آمنہ کے وہ نور آگیا

By August 13, 2021No Comments

جس سے دونوں جہاں جگمگانے لگے گود میں آمنہ کی وہ نور آگیا

عاصیو آج تقدیر بھی جاگ اٹھی آج محبوب ِ رب غفور آگیا

مل گیا جذبۂ بے کراں مل گیا سجدۂ شوق کو آستاں مل گیا

رقص کرنے لگی جھوم کر زندگی عشق کو بندگی کا شعور آگیا

بھردیئے اپنی قدرت کے رنگ اس میں سب ان کی تصویر کھینچی مصور نے جب

جس نے دیکھا انہیں دیکھتا رہ گیا جامِ نظارہ پی کر سرور آگیا

آگیا انقلاب اک جہاں میں عجب ٹوٹ کر رہ گیا ہر غرورِنسب

بن گیا ایک حبشی بھی رشک ِ عرب سارے بے نور چہروں پہ نور آگیا

تشنہ کاموں پیوسیر ہو کر پیو جس طرح حق ہے جینے کا ایسے جیو

ایسا ساقی کہیں جس کا ثانی وہ پلانے شراب طہور آگیا

سر پہ تاجِ شفاعت سجائے ہوئے درد امت کا دل میں چھپائے ہوئے

عاصیو آؤ بڑھ کر قدم چوم لو دیکھو سلطانِ یوم ِ نشور آگیا

ڈھونڈتا ہی رہے گا زمانہ مجھے غم بنائے گا کیسے نشانہ مجھے

ان کے دامن کا جب سے سہارا ملا حادثوں کی حدود سے میں دور آگیا

آپ تو آپ ہیں آپ کا نام بھی وجہِ توقیر و عزت سے اکرام بھی

درد میں جب زباں پر فروزاں ہوا چین دل کو ہمارے ضرور آگیا

بھیک حسب ِ کرم ہی عطا کیجئے میرے دامن کی تنگی کو مت دیکھئے

والئ بے کساں لاج رکھ لیجئے در پہ خاؔلد تمہارے حضور آگیا

Leave a Reply