Skip to main content
نعت

تو شمع رسالت ہے عالم ترا پروانہ

By September 6, 2021No Comments

تو شمع رسالت ہے عالم ترا پروانہ
تو ماہ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ

جو ساقئ کوثر کے چہرے سے نقاب اٹھے
ہر دل بنے میخانہ ہر آنکھ ہو پیمانہ

دل اپنا چمک اٹھے ایمان کی طلعت سے
کر آنکھیں بھی نورانی اے جلوۂ جانانہ

سرشار مجھے کر دے اک جام لبالب سے
تا حشر رہے ساقی آباد یہ مے خانہ

تم آئے چھٹی بازی رونق ہوئی پھر تازی
کعبہ ہوا پھر کعبہ کر ڈالا تھا بت خانہ

مست مے الفت ہے مدہوش محبت ہے
فرزانہ ہے دیوانہ دیوانہ ہے فرزانہ

میں شاہ نشیں ٹوٹے دل کو نہ کہوں کیسے
ہے ٹوٹا ہوا دل ہی مولیٰ ترا کاشانہ

کیوں زلف معنبر سے کوچے نہ مہک اٹھیں
ہے پنجۂ قدرت جب زلفوں کا تری شانہ

اس در کی حضور ہی عصیاں کی دوا ٹھہری
ہے زہر معاصی کا طیبہ ہی شفا خانہ

ہر پھول میں بو تیری ہر شمع میں ضو تیری
بلبل ہے ترا بلبل پروانہ ہے پروانہ

پیتے ہیں ترے درکا کھاتے ہیں ترے درکا
پانی ہے ترا پانی دانہ ہے ترا دانہ

ہر آرزو بر آئے سب حسرتیں پوری ہوں
وہ کان ذرا دھر کر سن لیں مرا افسانہ

سنگ درجاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی
سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ

گر پڑ کے یہاں پہنچا مر مر کے اسے پایا
چھوٹے نہ الہٰی اب سنگ در جانانہ

سنگ در جاناں ہے ٹھو کر نہ لگے اس کو
لے ہوش پکڑ اب تو اے بغزش مستانہ

وہ کہتے نہ کہتے کچھ وہ کرتے نہ کرتے کچھ
اے کاش وہ سن لیتے مجھ سے مرا افسانہ

اے مفلسو! نادارو! جنت کے خریداروں!
کچھ لائے ہو بیعانہ کیا دیتے ہو بیعانہ

کچھ نیک عمل بھی ہیں یا یوں ہی امل ہی ہے
دنیا کی بھی ہر شے کا تم لیتے ہو بیعانہ

کچھ اس سے نہیں مطلب ہے دوست کہ دشمن ہے
ان کو تو کرم کرنا اپنا ہو کہ بیگانہ

حب صنم دنیا سے پاک کر اپنا دل
اللہ کے گھر کو بھی ظالم کیا بت خانہ

تھے پاؤں میں بے خود کے چھالے تو چلا سر سے
ہشیار ہے دیوانہ ہشیار ہے دیوانہ

آنکھوں میں مری تو آ اور دل میں مرے بس جا
دل شاد مجھے فرما اے جلوۂ جانانہ

آباد اسے فرما ویراں ہے دل نورؔی
جلوے ترے بس جائیں آباد ہو ویرانہ

سرکار کے جلووں سے روشن ہے دل نورؔی
تا حشر رہے روشن نوریؔ کا یہ کاشانہ

سامانِ بخشش