Skip to main content

شہنشاہِ کُل سیّدِ رُسُل مبدءِ انوارِ ازلیّہ منتہاۓ عروجِ کمالیہ گلدستۂ ریاضِ ھویّت زجاجۂ مراتبِ احدیّت انیسِ بارگاہِ حسبیَ اللّہ جلیسِ خلوت گہِ لی معَ اللّہ والئ ولایتِ لا الٰہ الّا ھو وارثِ مملکتِ ملکِ لَا تخَافُوا زینت بخشِ عالمِ ناسوت رونق دہِ ممالکِ ملَکوت رئیسِ اربابِ جبروت امیرِ امارتِ لاہوت سیّاحِ بحارِ ہاہوت مرجعِ انبیاء و امم صاحبِ مقامِ محمود و لواءالحمد حضرتِ احمدِ مجتبیٰ محمّدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ رفعت نشان میں شیخ الاسلام والمسلمین اعلیحضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلی علیہ الرحمہ کے لازوال و بے مثال قصیدۂ معراجیہ کی ایک ذوق افزا تضمین

فلَک فلَک بام و دَر خوشی سے ملائکہ سب سجا رہے تھے
بَٹے تھے حلقوں میں حور و غِلماں لہک کے نغمے اَلاپتے تھے
سلامیوں کے اُٹھاۓ پَرچم قدم قدم اَنبیاء کھڑے تھے

وہ سرورِ کِشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوۓ تھے
نئے نرالے طرَب کے ساماں عرب کے مہمان کے لیے تھے

صباحِ نَو کی اذاں مبارک نسیمِ رحمت رساں مبارک
گُلوں کو رنگینیاں مبارک چہکتے چہرو اَماں مبارک
خزاں سے آزادیاں مبارک حیاتِ خوش جاوِداں مبارک

بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک
ملک فلَک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنادل کا بولتے تھے

سجی تھیں پانچوں ہی قبلہ گاہیں ادا تشکّر کی تھیں نمازیں
مظاہرِ کونیہ نگاہیں جماۓ بیٹھے تھے جلوہ دیکھیں
یہ شور و غل تھا جو گھر سے نکلیں ثریٰ ثریّا بچھا دیں پلکیں

وہاں فلَک پر یہاں زمیں میں رَچی تھی شادی مچی تھیں دھومیں
اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے

اُٹھایا جاتا حجابِ صُوری خدا ہی کہہ دیتے اُن کو قُدسی
وہ سرِّ ذاتی حقیقت اُن کی ابھی کمالِ نہاں میں ہی تھی
ظلالِ رخشندہ پر ٹھہرتی نہ چشمِ اِمکاں میں تاب آئی

یہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رُخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئینے تھے

جمالِ مُطلق کا مل کے غازہ شبابِ تازہ میں چہرہ آیا
نہا کے آبِ صفا سے اُجلا وجود بوۓ طلب سے مہکا
پہن کے اِکرامِ حق کا جوڑا جھکاۓ نظریں حیا سے سِمٹا

نئی دُلھن کی پَھبن میں کعبہ نکھر کے سنورا سنور کے نکھرا
حجر کے صدقے کمر کے اِک تِل میں رنگ لاکھوں بَناؤ کے تھے

اَزل سے تھے خواب جِن کے دیکھے وہ لمحے آۓ سہانی رُت کے
وہ خود پہ جانا ہزار صدقے کہ صحنِ جاں میں قدم وہ اُترے
جبینِ شوقِ لقا کے سجدے رہِ ہر اِک نقشِ پا میں بکھرے

نظر میں دولہا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سر جھکاۓ
سیاہ پردے کے منہ پر آنچل تجلئ ذاتِ بحت سے تھے

رخانِ پُرغم تھے مسکراۓ رہی نہ ہجراں کہ ہاۓ ہاۓ
مزے بہارِ عطا کے پاۓ عنادلِ شوق چہچہاۓ
خدا نے دِن خیر کے دِکھاۓ کوئی بتاۓ تو کیا بتاۓ

خوشی کے بادَل اُمَڈ کے آۓ دِلوں کے طاؤس رنگ لاۓ
وہ نغمۂ نعت کا سماں تھا حرم کو خود وجد آ رہے تھے

جناں سے حوریں مبارکی پر سبوچۂ ساچق آئیں لے کر
تجلّیاتِ عَماء کے زیور وہ بخشی اَوج و شرَف کی چادر
مغنّیانِ قدُس کے منبر بچھے جو بہرِ ثناۓ سرور

یہ جھوما میزابِ زَر کا جھومر کہ آ رہا کان پر ڈَھلَک کر
پھوہار برسی تو موتی جَھڑ کر حطیم کی گود میں بَھرے تھے

سہاگ نسبت کے پہنے گجرے ہزار رُخ پر گرا کے پردے
قدم جو دولہا حرم کو اُٹّھے مہکتے مَوجے لہکتے لپٹے
عنایتوں کے تھے بادَل اُمڈے ہر ایک گوشے پہ جَم کے برسے

دلہن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیم گستاخ آنچلوں سے
غلافِ مشکیں جو اُڑ رہا تھا غزال نافے بسا رہے تھے

کہیں وہ گل ہاۓ صد ہا رنگیں کہیں تھیں خوش سُر سی تانیں پلٹیں
وہ دامنِ کوہ میں مچلتیں خنَک ہوائیں لہکتی گاتیں
وہ گرتے جَھرنے وہ چشمے شیریں اے ہم نشیں کیسی وادیاں تھیں

پہاڑیوں کا وہ حسنِ تزئیں وہ اُونچی چوٹی وہ ناز و تمکیں
صبا سے سبزہ میں لہریں آتیں دوپٹّے دھانی چنے ہوۓ تھے

وہ کھرج و رَے ناز و خَم سے نکلا جو تانت باجی تو راگ پایا
بہاگ گاتے تھے دشت و صحرا مَلار پر رقص کرتی برکھا
بہارِ عشرت نے اِک تماشا نشاطِ تازہ کا یہ دِکھایا

نہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آبِ رَواں کا پہنا
کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا حبابِ تاباں کے تھل ٹکے تھے

ہر اِک رخِ نجمِ ہم نوا تھا بروجِ اِثنا عَشَر میں چمکا
بناتِ نعشِ سماء کا مجرا تھے ہفت افلاک رقص فرما
تنزّلاتِ صفات و اسماء کیے تھے کچھ اہتمام ایسا

پرانا پُرداغ ملگجا تھا اُٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجومِ تارِ نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش بادلے تھے

فسانۂ غم کسے سنائیں یہ داغِ ہجراں کسے دِکھائیں
بہ اشکِ خونیں جگر بہائیں کہ حشرِ آہِ زَناں اُٹھائیں
نشانِ ہست و عدم مٹائیں یہ مشتِ خاک اپنی یوں اُڑائیں

غبار بن کر نثار جائیں کہاں ہم اُس رہگزر کو پائیں
ہمارا دل حوریوں کی آنکھیں فرشتوں کے پَر جہاں بچھے تھے

ہوئی تھیں اعناقِ شش جہت خَم وراۓ اِمکاں تھا خیر مقدم
عقولِ عالم زبانِ ابکم طبائع جملہ سکوتِ پیہم
جواہر اعراض مل کے باہم تھے قیدِ حیّز میں محوِ ماتم

خدا ہی دے صبر جانِ پُرغم دِکھاؤں کیونکر تجھے وہ عالم
جب اُن کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولہا بنا رہے تھے

چہار عنصر کا تھا تقاضا بڑھیں قدم لیں بوقتِ اِسرا
وہ رنگ معراج نے دِکھایا تھا ہفتِ طارَم تلک تماشا
کمالِ اعراج نے اُٹھایا حجابِ حسنِ جنابِ والا

اُتار کر اُن کے رخ کا صدقہ یہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے

ہُمک رہا ہے مہک رہا ہے اُسی سے گلشن چہک رہا ہے
وہی تو جاں میں کھنک رہا ہے اُسی سے ہر دِل دھڑک رہا ہے
وہی تو شیشہ چمک رہا ہے اُسی کا جلوہ جھلک رہا ہے

وہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لیے تھے

وہ شانِ فاران و رشکِ ایمن کہ جس سے ہے کن یَکوں معَنوَن
کیے وہ اشنانِ آبِ روشن نرالے پَن میں تھا جلوہ افگن
گہر گہر موجِ نور پتّن بچھا بچھا عرش عرش دامن

بچا جو تلووں کا اُن کے دھوون بنا وہ جنّت کا رنگ و روغن
جنہوں نے دولہا کی پائی اُترن وہ پھول گلزارِ نور کے تھے

تھی جشنِ نَوروز کی منادی دُرود شیرینی سب نے بانٹی
لگی سبیلِ شفاۓ آبی سعادتوں کی تھی نقش بندی
نظامِ عالم کی نبض ٹھہری حمل کی آغوش مسکرائی

خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی کہ رُت سہانی گھڑی پِھرے گی
وہاں کی پوشاک زیبِ تن کی یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے

ہر اِک تھا تارِ قباۓ دلبر شعاعِ مہرِ قدس کا مظہر
جمالِ عجز و حیا کے منظر بکھیرتی تھی دوشانہ چادر
وہ رفعتوں کا مطاف و محور بڑھا یوں سیرِ دَنَیٰ کو یکسر

تجلئ حق کا سہرا سر پر صلوٰۃ و تسلیم کی نچھاور
دو رویہ قدسی پَرے جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھے

چِھدا ہوا آرزو کا دامن فراق جاموں میں جلتا شیون
فسردہ ہے حسرتوں کا ساون خزاں رُتوں سے ہے اُجڑا آنگن
نہ ہوتا یوں آسمان دشمن نہ رہتی محرومِ جلوہ اَکھیَن

جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے

فلک فلک قدسیوں کے بیرَک علم لگاۓ جلاۓ دیپک
جِدھر کو مڑتی عنانِ مرکب تھی شورشِ حبّذا مبارک
کھنچی جو وحدت کی قوس اَچانک ہدف دوئی کا تھا زیرِ ناوَک

ابھی نہ آۓ تھے پشتِ زیں تک کہ سر ہوئی مغفرت کی شلّک
صدا شفاعت نے دی مبارک گناہ مستانہ جھومتے تھے

وہ اَبرِ الطاف کا برسنا وہ بارشِ نور میں نکھرنا
نہالِ تشبیہ کا نکلنا وہ باغِ تنزیہ میں مہکنا
وہ جلوہ گاہِ صفات بننا وہ رنگ ذاتِ خدا کا چڑھنا

عجب نہ تھا رخش کا چمکنا غزالِ دَم خوردہ کا پھڑکنا
شعاعیں بُکے اُڑا رہی تھیں تڑپتے آنکھوں پہ صاعقے تھے

مراتبوں کا تھا رَکھ رَکھاؤ عنایتوں کا تھا رَچ رَچاؤ
یہ حکم اُٹّھا صدا لگاؤ جہاں ہو رُک جاؤ اے گداؤ
تڑپتوں کو راہ سے اُٹھاؤ براق سدرہ تلک لے آؤ

ہجومِ اُمید ہے گھٹاؤ مرادیں دے کر انہیں ہٹاؤ
اَدب کی بھاگیں لیے بڑھاؤ ملائکہ میں یہ غلغلے تھے

وہ شرحِ اجمالِ کن کا مظہر وہ کل کا مَقسم وہ کل کا مصدر
چلا وہ بن کر ختام پیکر بڑھا وہ انوارِ حق کا محور
نہ تابِ جلوہ میں تھا وہ منظر بس اِتنا ہے یاد کھا کے ٹھوکر

اُٹھی جو گردِ رہِ منوّر وہ نور برسا کہ راستے بھر
گرے تھے بادَل بھرے تھے جل تھل اُمڈ کے جنگل اُبَل رہے تھے

وہ جس سے تھی راہ راہ اُجلی وہ وادی وادی کہ جس سے مہکی
سواری جس سمت ہو کے گزری ہر ایک شے حسنِ نَو سے نکھری
کہاں رخِ شہ کا تھا فدائی نہ رمز کیوں ایسی ہاتھ آئی

ستم کیا کیسی مَت کٹی تھی قمر وہ خاک اُن کی رہگزر کی
اٹھا نہ لایا کہ مَلتے مَلتے یہ دیکھنا داغ سب مٹے تھے

عجب تھے جلوے عجب نظارے نہ آنکھ نے پہلے ایسے دیکھے
تھے طیرِ پیہم کے وہ تماشے نہ چشمِ حد پر ٹھہرنے پاۓ
شمائمِ روح افزا سے تھے ہر ایک شے پر خمار جامے

براق کے نقشِ سُم کے صدقے وہ گل کھلاۓ کہ سارے رستے
مہکتے گلبن لہکتے گلشن ہرے بھرے لہلہا رہے تھے

وہ نقطۂ جانِ سطحِ دائر فروع جس کی خطوطِ سائر
حقائق و کل علَل کا ناظر مکان و مافیہ جس پہ ظاہر
وہ اسمِ ظاہر کہ جس کی خاطر بنی ذواتِ رسُل ضمائر

نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سرّ عیاں ہو معنئ اوّل آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے

وہ شوقِ بہجت فزا بپا تھا عجب تماشا کہ جا بہ جا تھا
وہ حال کیف و سرور کا تھا ہر ایک خود کو سنبھالتا تھا
حجاب خود کے اتارتا تھا جمال خود کو سنوارتا تھا

یہ اُن کی آمد کا دبدبہ تھا نکھار ہر شے کا ہو رہا تھا
نجوم و افلاک جام و مینا اُجالتے تھے کھنگالتے تھے

ظہورِ تفصیل کا وہ پیکر وہ سیرِ آفاقیت کا محور
وہ صُورَتُ الاَمر و کُنہِ صُوَّر وہ نقشِ وجہِ نقوشِ دیگر
ہر ایک عالم رہے نہ کیونکر ہمہ زماں زیرِ پا مسخر

نقاب الٹے جو مہرِ انور جلالِ رخسار گرمیوں پر
فلک کو ہیبت سے تَپ چڑھی تھی تپکتے انجم کے آبلے تھے

وہ جلوۂ رخ جدھر جدھر تھا نظر کا سجدہ اُدھر اُدھر تھا
جہانِ حیرت کہ سر بہ سر تھا ابھی تعارف یہ مختصر تھا
ہزار پردوں میں مستتر تھا وہ کشفِ اوّل کہ اِس قدر تھا

یہ جوششِ نور کا اثر تھا کہ آبِ گوہر کمر کمر تھا
صفاۓ رہ سے پھسل پھسل کر ستارے قدموں پہ لوٹتے تھے

ہوا جو ضَوریز ماہِ طلعت رہا نہ کوئی حجابِ ظلمت
وہ ہالۂ سطحِ حق بہ صورت وہ موجیں نغمہ طرازِ عشرت
وہ کیفِ رودِ ظہورِ حیرت وہ شورِ سیلابِ شانِ قربت

بڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت کہ دُھل گیا نامِ ریگِ کثرت
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دو بلبلے تھے

وہ لِی مع اللہ کے تھے درجے جہاں رسول و ملک نہ پہنچے
پَرے عقولِ مجرّدہ سے تھے محو و اثبات کے دریچے
تھے کیا بسائط تھے کیسے قضیے نہ صدقِ عینی نہ لَا کے رشتے

وہ ظلِّ رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے
سنہری زَربفت اودی اطلس یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے

وہ جس کی قامت پہ عرش قرباں وہ بلبلیں جس کی تہنیت خواں
یہ رقصِ بِسمل میں طائرِ جاں تھا تَن سے ہونے کو تَن کے پرّاں
وہ چشمِ مَازَاغ و حَمد مژگاں وہ زلفِ والّیل و روۓ تاباں

چلا وہ سروِ چماں خراماں نہ رک سکا سدرہ سے بھی داماں
پلَک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گذر چکے تھے

تَحَوَّلَ فِی الصُّوَر کشائی کسی کی جس تک نہ تھی رسائی
مراتب و شانِ ارتقائی صوابِ شاب و جمال ادائی
حقیقتِ ذاتِ مصطفائی نہ جس کی تھی تابِ آشنائی

جھلک سی اِک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پِھر نہ پائی
سواری دولہا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے

جلالِ انوار کی تھی وہ لو تھا خود کے جَلنے کا خوف ہر سُو
وراۓ حیرت تھی وادئ ھو قلانچیں کیا بھرتا سدرہ آہو
وہ فاتحِ خِطّۂ مَن و تُو بڑھا جو دَم بھر سنوارے گیسو

تھکے تھے روح الامیں کے بازو چُھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رکاب چھوٹی امید ٹوٹی نگاہِ حسرت کے ولولے تھے

کنایہ تمثیل استعارہ قلم تخیل نہ لہجہ ایسا
حدودِ محدود پر ہے پہرہ وہاں نہ اِدراک و علم پہنچا
مشاہدہ تیری گردِ پا کا کرے کوئی کیا مجال شاہا

روِش کی گرمی کو جس نے سوچا دماغ سے اِک بھبوکا پھوٹا
خرَد کے جنگل میں پھول چمکا دہر دہر پیڑ جَل رہے تھے

فغانِ حسرت زَدہ سے بکھرے وہ خونِ خلتیدہ دِل کے ٹکڑے
وہ داغِ ہجراں کے سب تقاضے رہے درونِ طلب تڑپتے
پسینے چُھوٹے وہ زور ٹوٹے پَروں میں چہرہ چھپاۓ لوٹے

جَلو میں جو مرغِ عقل اُڑے تھے عجب بُرے حالوں گرتے پڑتے
وہ سدرہ پر ہی رہے تھے تھک کر چڑھا تھا دَم تیورا گئے تھے

نہ عذرِ واماندگی ہو کیونکر پَرے تصوّر سے تھا وہ منظر
اڑان ایسی نہ ایسے شہپر نہ جرّأت ایسی اُڑیں برابر
قُویٰ ہوۓ مضمحل وہ یکسر بندھے پَڑے تھے سب اپنی حد پر

قَوی تھے مرغانِ وہم کے پَر اُڑے تو اُڑنے کو اور دَم بھر
اٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خونِ اندیشہ تھوکتے تھے

بروج و چرخِ قمر نے مل کے ثِخَن ثِخَن تھے اُچھالے جلوے
سطوح قوسیں خطوط نقطے دوائرِ عشرہ اَدلے بدلے
قبیلے قبلے سما کے سمٹے مماس جہتیں وہ رنگ پھوٹے

سنا یہ اِتنے میں عرشِ حق نے کہ لے مبارک ہو تاج والے
وہی قدم خیر سے پھر آۓ جو پہلے تاجِ شرَف ترے تھے

تنزّلِ اوّلیں کا منشاء جمیعِ موجود کا خلاصہ
ظہور ابداعِ عالمیں کا فروعِ کَونی کا اصل مایہ
بغیر اِس کے عدم نہ کُھلتا نہ میں بھی ہوتا ظہور فرما

یہ سن کے بے خود پکار اُٹّھا نثار جاؤں کہاں ہیں آقا
پھر اُن کے تلووں کا پاؤں بوسہ یہ میری آنکھوں کے دِن پِھرے تھے

حجاب اندر حجاب لپٹا وہ جانِ رازِ ازَل سراپا
نہ تحتِ قدرت مثیل جس کا نہ کُنہ تک جس کی کوئی پہنچا
وِداعِ اِمکاں کے وقت ایسا سماں بندھا تھا کہ اللہ اللہ

جھکا تھا مجرے کو عرشِ اعلیٰ گِرے تھے سجدے میں بزمِ بالا
یہ آنکھیں قدموں سے مل رہا تھا وہ گردِ قربان ہو رہے تھے

حدودِ جسمی سبھی مٹائیں نقابِ روحی سبھی اُٹھائیں
طنابِ معنی سبھی گرائیں جہات قدموں میں آ سمائیں
ظہور نے حیرتیں دِکھائیں وہ شمعیں کَیف اَینَ نے بجھائیں

ضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں کہ ساری قندیلیں جِھلمِلائیں
حضورِ خورشید کیا چمکتے چراغ منہ اپنا دیکھتے تھے

برس رہا تھا سحابِ عشرت رواں تھا دریاۓ شکرِ نعمت
وہ لَا تَناہی جمالِ کثرت محاط تھا پیشِ روۓ وحدت
تھی خلوتِ بے نیازِ جلوت حضور تھا محوِ شوقِ غَیبت

یہی سماں تھا کہ پَیکِ رحمت خبر یہ لایا کہ چلیے حضرت
تمہاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے

نوازشیں تھیں وہ بے معَدَّد کہ مِٹ چکا تھا خطِ محدَّد
حدوثِ ظاہر سے تھا مقیَّد بطوں میں کہیے قِدَم مؤیَّد
تھا بحرِ بے جذرِ جوششِ مَدّ یوں بہرِ ماہِ طلوعِ سرمَد

بڑھ اے محمَّد قریں ہو احمد قریب آ سرورِ ممجَّد
نثار جاؤں یہ کیا نِدا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے

مثال لَیسَ کَمِثلِہٖ کی نہ امرِ خارج میں ہے نہ ہو گی
عیاں تُو ایسا کہ سب پہ مخفی نہاں میں تیرے ہے شانِ اِنِّی
ظہورِ اسماء شہودِ ظِلّی کسی کو نسبت نہ جزوی کُلّی

تَبَارَکَ اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لن تَرَانِی کہیں تقاضے وصال کے تھے

نظر کمیّت پہ اپنی ڈالے تو شرم مارے ہی منہ چھپا لے
جو جائزہ خبط و حبط کا لے تو آگ اِدراک کو لگا لے
توسّعِ ضبط کے اجالے ہمارے اِس کے ہیں دیکھے بھالے

خرَد سے کہہ دو کہ سَر جھکا لے گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے کسے بتاۓ کدھر گئے تھے

تنزّل و اِستواء کہاں تھا وہاں تعیّن روا کہاں تھا
خلا کا بھی کچھ پتہ کہاں تھا توقّف و ارتقاء کہاں تھا
مقامِ قوسِ دَنَیٰ کہاں تھا خبر کسے کون کیا کہاں تھا

سراغِ اَین و متَیٰ کہاں تھا نشانِ کَیف و اِلیٰ کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزل نہ مرحلے تھے

نسیمِ وادئ ھو کا چلنا طلب کے سبزوں کا لہلہانا
سحابِ لمعات کا برسنا ظہورِ ہر مرتبہ نکھرنا
وہ رفتن و آمدن کا ہونا وہ محوِ شانِ نزول رہنا

اُدھر سے پیہم تقاضے آنا اِدھر تھا مشکل قدم بڑھانا
جلال و ہیبت کا سامنا تھا جمال و رحمت ابھارتے تھے

قباۓ فقرِ اَتَم کو پہنے رِداۓ حق الیقین اوڑھے
تفرّد و جمعیت کے زینے قدم قدم تھے فنا وسیلے
صُعُود اِلَی الغَیب کے سفینے وہ بحرِ لَا اَینَ میں تھے اترے

بڑھے تو لیکن جھجھکتے ڈرتے حیا سے جھکتے ادب سے رُکتے
جو قرب اِنہی کی روِش پہ رکھتے تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھے

مشاہدہ تھا محیطِ اشیاء ابھی تو تھا مرتبہ یہ پہلا
اٹھا وہ نظروں سے پردہ پردہ مشابہت تھی نہ یکسر اَصلا
بجز انہی کے وجودِ تنہا کوئی تحرّک نہ شور دیکھا

پر اُن کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقتاً فعل تھا اُدھر کا
تنزّلوں میں ترقّی اَفزا دَنَیٰ تَدَلّیٰ کے سلسلے تھے

بہ رنگِ تجمیعِ احدیت کیا شہودِ اوّل سے تھا ہویدا
وہ اعتباراتِ فیضِ اسماء نہ قوسِ وحدت سے تھے معَرّا
یہاں تو اب یہ تقاضا بدلا کہ غیریت کا کنارہ ٹوٹا

ہوا نہ آخر کہ ایک بجرا تَموجِ بحرِ ھو میں ابھرا
دَنَیٰ کی گودی میں ان کو لے کر فنا کے لنگر اٹھا دیے تھے

نہ حصر و حد ضابطہ اشارا کوئی صراحت نہ استعارا
قیاس و اِدراک و علم ہارا نہ کشف و عرفاں نے دَم ہی مارا
رسائیِ غیر کو نہ یارا دوئی وہاں تھی کہاں گوارا

کسے ملے گھاٹ کا کنارا کدھر سے گزرے کہاں اتارا
بھرا جو مثلِ نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے

بہم نہ کچھ کذب قضیے جوڑے بناۓ شکلیں نہ حَد گراۓ
کہاں بداہت وہاں پہ پہنچے درست نکلیں گے کیا نتیجے
اے عقل حدِّ ادب “نہ بولے” معَمّہ ہے یہ کہاں وہ ٹھہرے

اٹھے جو قصرِ دَنَیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جا ہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے،ارے تھے

گھٹا وہ چھائی وہ ابر برسا عجب تلاطم میں اُمڈا دریا
ہوا وہ سیراب گوشہ گوشہ صفَت صفَت عکس عکس پھوٹا
فضا میں جامِ جمال چھلکا لطافتوں کا جہان مہکا

وہ باغ کچھ ایسا رنگ لایا کہ غنچہ و گل کا فرق اٹھایا
گرہ میں کلیوں کی باغ پھولا گلوں کے تکمے لگے ہوۓ تھے

کوئی نہ تھا فردِ قطر شامل نہ سہم کوئی نہ وتر داخل
نہ استواء نصف قطب حائل نظامِ تقویم سب تھا زائل
مشاہدہ تھا وہاں سے عاطل شکستہ ہیئت کے تھے دلائل

محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوطِ واصل
کمانیں حیرت میں سر جھکاۓ عجیب چکّر میں دائرے تھے

ایاغِ مَے نابِ تازہ چھلکے نظر پہ رؤیت کے کیف آۓ
ضیافتِ ذات نے بچھاۓ جمالِ مطلق کے خوان کیسے
یوں قربت و بُعد کے تقاضے ہوۓ تھے پورے مٹے تھے شکوے

حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے

وہی ، دو عالم کہ جس کی لہریں اسی کے دریا اسی کی نہریں
اسی کے ساحل اسی کی راہیں اسی کی خاموشیاں اُٹھانیں
اسی سمندر کی چاروں حَد میں بنی طلب کی تماشہ گاہیں

زبانیں سوکھی دِکھا کے موجیں تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیں
بھنور کو یہ ضعفِ تشنگی تھا کہ حلقے آنکھوں میں پڑ گئے تھے

وہ خود ہی مذکور خود ہی ذاکر وہ خود تجلّا وہ خود ہی ساتِر
سرائر و مُظہَر و نظائر عکوس و اظلال کا وہ دائر
وہی خبر مخبَر و مخَبِّر وہ خود ہی منظور خود ہی ناظر

وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اسی کے جلوے اسی سے ملنے اسی سے اس کی طرف گئے تھے

سب احتمالِ ضروب”قضیو”کہاں ہیں ناتِج یہاں سے پلٹو
مغالطہ میں ہو کذب زادو نہ نسبتِ حکم کوئی جوڑو
جو ضعفِ اعراض اپنا دیکھو تو تم بھی یوں یَک زبان بولو

کمانِ امکاں کے جھوٹے نقطو تم اوّل آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آۓ کدھر گئے تھے

یہ راز کیا اہلِ عقل سمجھیں نہ وجہِ اعمال تھیں عطائیں
یہ رفعتِ عبدیت کی شانیں دِکھاتی تھیں عجز کی ادائیں
رضاۓ دو طرفہ کی جو بانہیں ،کُھلیں ، معانق ہوئیں تھیں قوسیں

اِدھر سے تھیں نذرِ شہ نمازیں اُدھر سے انعامِ خسروی میں
سلام و رحمت کے ہار گندھ کر گلوۓ پُرنور میں پڑے تھے

وہ چَھنتے درپن چھلکتے نینن بچھے ہوۓ حیرتوں کے دامن
وہ برقِ وحدت دوئی کے خِرمن عوارضِ جملہ محوِ شیوَن
ظہورِ انوارِ پردہ افگن اَحَد نے توڑا وہ میم بندھن

زبان کو انتظارِ گفتن تو گوش کو حسرتِ شنیدن
یہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا جو بات سننی تھی سن چکے تھے

وہ جس پہ ہر غیب آشکارا جہان ہے ملک جس کی سارا
نہ غم میں اُمّت جسے گوارا جو ٹھہرا ہر ایک کا سہارا
جو ملنا تھا مل چکا اشارا جو کرنا تھا کر لیا نظارا

وہ برجِ بطحا کا ماہ پارا بہشت کی سیر کو سدھارا
چمک پہ تھا خلد کا ستارا کہ اُس قمر کے قدم گئے تھے

پلک جھپکنے سے بے نیازی تھی چشمِ حور و ملک نے برتی
وہ جس نے صورت خدا کی دیکھی اُسی کے جلووں کی تھی خماری
صداۓ صدہا مبارک اُٹّھی بہشت قدموں سے آ کے لپٹی

سرورِ مقدم کی روشنی تھی کہ تابشوں سے مہِ عرب کی
جناں کے گلشن تھے جھاڑ فرشی جو پھول تھے سب کنول بنے تھے

سَروں کو سَودا تھا اٹھیے اُڑیے کبھی یہ خواہش کہ جھکیے کَٹیے
نہ پیچھے ہٹیے نہ آگے بڑھیے یوں کیف و کَم میں تھے اُن کے قضیے
نہ قبض کے ضعف سے سُکڑیے جو بسط ہو ضبط کیسے کریے

طرب کی نازش کہ ہاں لچکیے ادب وہ بندش کہ ہِل نہ سکیے
یہ جوشِ ضدّین تھا کہ پودے کشاکشِ اَرَّہ کے تلے تھے

زمانوں کے ناز تھے نرالے اِدھر وہ سمٹے اُدھر وہ پھیلے
کہاں کہاں کتنا کتنا ٹھہرے جہان دیکھے تھے کیسے کیسے
یہ کیا حقائق ہیں کیا معَمّے نظر کو یارا نہ عقل سمجھے

خدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروڑوں منزل میں جلوہ کر کے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نور کے تڑکے آ لیے تھے

بیانِ مطلب ہزار لُکنَت کہاں ہے دامن کو تابِ وسعت
یہ میری منَّت یہ میری نیّت ہے تجھ پہ ظاہر ہر ایک حاجت
بہ مصرعِ ذاتِ اعلیحضرت جُڑی ہے رازیٓ کی ساری حالت

نبئ رحمت شفیعِ امّت رضا پہ للہ ہو عنایت
اِسے بھی اُن خلعتوں سے حصّہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے

نہ جودتِ طبع کبر آسا نہ لفظ و معنی پہ ہے بھروسا
نہ داد و تحسین کا ہوں شیدا نہ طالبِ سیم و زَر ذرا سا
جو ہوں تو مدّاح مصطفیٰ کا گواہ ہے اِس پہ نطق میرا

ثناۓ سرکار ہے وظیفہ قبولِ سرکار ہے تمنّا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا روی تھی کیا کیسے قافیے تھے

از : میرزا امجد رازی