Skip to main content
نعت

جوشِ وحشت نے کیا بادیہ پیما مجھ کو

By August 20, 2021No Comments

جوشِ وحشت نے کیا بادیہ پیما مجھ کو
خلد سے لائی ہے طیبہ کی تمنا مجھ کو


دیکھ لوں آپ نے کس لطف سے دیکھا مجھ کو
ہوش رہ جائے دم نزع بس اتنا مجھ کو


اپنے پیاروں کے غلاموں میں جو پایا مجھ کو
چشم حق بیں نے بڑے پیار سے دیکھا مجھ کو


اللہ اللہ مری چشم تصور کا کمال
کالے کوسوں سے نظر آتا ہے طیبا مجھ کو


باندھ رکھے ہیں مرے جوشش حیرت نے قدم
کھینچ لے چل دلِ مشتاق مدینا مجھ کو


کانٹے چن چن کے سیوں چاک گریباں اپنا
راہ طیبہ میں رہے ہوش بس اتنا مجھ کو


میں نہیں کہتا کہ کچھ ہوش رہے ہاں نہ رہے
سنگِ در پر ترے درکار ہے سجدہ مجھ کو


آپ کے ہوتے نہیں کوئی تمنا واللہ
مل گئے آپ تو بس مل گئی دنیا مجھ کو


میں نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن
کون پوچھے گا جو تم دو گے نکالا مجھ کو


کوئے طیبہ سے تو لے چلنے کی ضد ہے ناصح
کس کو روؤں گا اگر خلد نہ بھایا مجھ کو


میں تو سمجھا تھا کہ عصیاں مرے لے ڈوبیں گے
رحمتِ حق نے مگر ڈھونڈ نکالا مجھ کو


غوث اعظم، ہے خلیؔل آپ کے در کا منگتا
اب تو دے دیجئے آقا کوئی ٹکڑا مجھ کو

Was this article helpful?
YesNo