Skip to main content
نعت

بشر وہ ہے جس کو تیری جستجو ہے

By September 8, 2021No Comments

بشر وہ ہے جس کو تیری جستجو ہے
وہی لب ہے جس پر تیری گفتگو ہے

تری یاد آبادئ خانۂ دل
دلوں کی تمنا تیری آرزو ہے

اُسے ایک اللہ نے ایک بنایا
وہ ہر وصف میں لا شریک لہٗ ہے

میں وہ سگ نہیں ہوں بہت در ہوں جس کے
میں وہ سگ ہوں جس  کا فقط ایک تو ہے

نماز و اذاں کلمہ و ذکر و خطبہ
یہ سب پھول ہیں ان کا تو رنگ و بو ہے

تمہاری سلامی نمازوں میں داخل
تصوّر تیرا شرطِ مثلِ وضو ہے

تمہاری اطاعت خدا کی عبادت
تیرا تذکرہ ذکرِ حق ہو بہو ہے

دمِ نزعِ سالکؔ کا سر ہو تیرا در
یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے

Leave a Reply