Skip to main content
نعت

بحمداللہ عبداللہ کا نور نظر آیا

By September 7, 2021No Comments

بحمداللہ عبداللہ کا نور نظر آیا
مبارک آمنہ کا نورِ دل لخت جگر آیا

یہ عبدالمطلب کی خوبی قسمت کہ ان کے گھر
چراغ لامکاں کون و مکاں کا تاجور آیا

وہ ختم الانبیا تشریف فرما ہونے والے ہیں
نبی ہر ایک پہلےسے سناتا یہ خبر آیا

ربیع پاک تجھ پر اہلسنت کیوں نہ قرباں ہوں
کہ تیری بارہویں تاریخ وہ جانِ قمر آیا

ہوئے جب جلوہ فرما شاہِ ذیشاں بزم دنیا میں
ہر اک قدسی فلک سے بہر پابوسی اتر آیا

جھکا جاتا ہے سجدے کے لیے اس واسطے کعبہ
کہ مسجود ملائک آج اس میں جلوہ گر آیا

نہ کیوں تنہا کرے فرمانروائی بہفت کشور پر
کہ ہمراہی میں اپنی لے کے وہ فتح و ظفر آیا

کہانت مٹ گئی بالکل کہ اب وہ منجرصادق
بفضل اللہ اک اک بات کی دینے خبر آیا

علوم اولین و آخریں ہیں جس کے سینے میں
خبر ہے ذرہ ذرہ کی جسے وہ باخبر آیا

نفاقِ جاہلیت سے کہو اب منہ چھپا بیٹھے
قبائل کو وہ کرنے کے لیے شیرو شکر آیا

شبِ میلاد اقدس تھی مسرت ذرہ ذرہ کو
مگر ابلیس اپنے ساتھیوں میں نوحہ کر آیا

زمیں بولی کہ تبخانے سے پاک و صاف ہوتی ہوں
ندا کعبہ سے اُٹھی اب مرا مقصود بر آیا

گنہگار و کدھر ہو فرد عصیاں اپنی دھو ڈالو
رسول اللہ کا دریائے رحمت جوش پر آیا

چلو اے مفلسوجو آج مانگو گے وہ پاؤ گے
کہ صدقہ بانٹتا ارض و سما کا تاجور آیا

حکومت ایسی نافذ ہے کہ ان کا حکم پاتے ہی
علی کے واسطے مغرب سے سورج لوٹ کر آیا

دیا حکم حضوری جس گھڑی سرکار والانے
زمیں کو چیرتا سجدہ کناں فوراً شجر آیا

کہو ہر روز کتنی بار تم یاد اس کی کرتے ہو
خیال امت عاصی جسے آٹھوں پہر آیا

یہ کہہ اٹھوں وہ میری قبر میں جب جلوہ فرماہو
تو ہٹ جا ظلمت مرقد کہ وہ جان قمر آیا

وہابی محفل اقدس میں گر آئے تو یوں سمجھو
کہ انسانوں میں کفری بوجھ لادے جیسے خرآیا

جمیل قادری جب سبز گنبد ان کا دیکھوں گا
تو سمجھوں گا مری نخل تمنا میں ثمر آیا

قبالۂ بخشش