Skip to main content
نعت

اے دل تودرودوں کی اول تو سجا ڈالی

By September 7, 2021No Comments

اے دل تودرودوں کی اول تو سجا ڈالی
پھر جا کر مدینہ میں روضے پہ چڑھا ڈالی

کیا نذر کروں تیرے دربار مقدس میں
توصیف کے پھولوں کی لایا ہوں شہا ڈالی

احمد کو کیا آقا اور ہم کو کیا بندہ
اللہ نے رحمت کی کیا خوب بنا ڈالی

بس جائے دماغ جاں عشاق کا خوشبو سے
لاباغ مدینہ سے پھولوں کی صبا ڈالی

خورشید و قمر ایسے ہوتے نہ کبھی روشن
تو نے ہی جھلک ان میں اے نور خدا ڈالی

تم سے نہ کہوں کیوں کر تم چاند عرب کے ہو
دیکھو تو شب غم نے کیا مجھ پہ بلا ڈالی

شرمندہ کیا مجھ کو آگے میرے آقا کے
اے نفس ِلعیں تونےمجھ پریہ بلاڈالی

مولیٰ میرےنامے سےدُھل جائیں گےسب عصیاں
اک بونداگرتونےاےابرِسخاڈالی

مجرم ترے ارمانوں کا ہے باغ پھلا پھولا
لے فرد گنا ہوں کی مولیٰ نے مٹا ڈالی

سب بھر دیے زخمِ دل سرکار مدینہ نے
قلبو ں میں غلاموں کے رحمت کی دوا ڈالی

کچھ ایسی گھٹا نوری امنڈی کہ تری امت
پاک ہوگئی رحمت کی بارش میں نہا ڈالی

واللہ مدد ان کی ہر دم ہے کمر بستہ
جو بات مری بگڑی مولیٰ نے بنا ڈالی

مقبول اسے کیجیے اور اس کا صلہ دیجیے
لایا ہے جمیل اپنے ارماں کی سجا ڈالی

قبالۂ بخشش