Skip to main content

اُنﷺ کے قدموں سے لپٹ جاٶں قضا سے پہلے
اپنے دامن میں چھپا لیں گے سزا سے پہلے

اُنﷺ کے انوار سے روشن ہے خلا کا سینہ
اُنﷺ کی تخلیق ہوئی ارض و سما سے پہلے

اُنﷺ کی تعظیم مقدم ہے سخن دانی پر
اشک سجدہ کریں پیمانِ وفا سے پہلے

لفظ جتنے ہوں غلامی کا عمامہ باندھیں
دے خدا ایسا ہنر رزقِ ثنا سے پہلے

چوم لوں حضرتِ حسانؓ کے آثارِ قلم
اذنِ گویائی بھی لوں کلکِ رضاؒ سے پہلے

موسمِ عشق کے آدابِ وفا بھی سیکھو
شہرِ طیبہ کی کھلی آب و ہوا سے پہلے

تنگ دامانی کا احساس ہے اب کتنا شدید
ہاتھ خالی تھے زرِ صلِّ علیٰ سے پہلے

خشک ہے کب سے مرے خطۂ دل کی مٹی
ٹوٹ کر برسے مری آنکھ گھٹا سے پہلے

سر برہنہ ہے ابھی میری زمیں کی ممتا
ہو عطا اس کو ردا میری ردا سے پہلے

اہلِ طائف کی شقاوت، وہ پیمبرﷺ کی دعا
یاد کرلیتا ہوں ہر کرب و بلا سے پہلے

حاضری اس درِ اقدس کی بھی لازم ہے ریاضؔ
عرضِ بخشش کے لیے پیشِ خدا سے پہلے

❤ریاض حسین چودھری رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ❤