Skip to main content
نعت

اس دیارِ قدس میں لازم ہے اے دل احتیاط

By August 17, 2021No Comments

اس دیارِ قدس میں لازم ہے اے دل احتیاط
بے ادب ہیں کر نہیں پاتے جو غافل احتیاط


جی میں آتا ہے لپٹ جاؤں مزار پاک سے
کیا کروں ہے میرے ارمانوں کی قاتل احتیاط


اضطراب عشق کا اظہار ہو بے حرف و صوت
اے غم دل احتیاط اے وحشت دل احتیاط


عشق کی خودرفتگی بھی حسن سے کچھ کم نہیں
ہے مگر اس حسن کے رخسار کا تل احتیاط


انکے دامن تک پہونچ جائیں نہ چھینٹیں خون کی
ہے تڑپنے میں لازم مرغ بسمل احتیاط


آبتاؤں تجھ کو میں ارشاد اَوْادنیٰ کا راز
ان کے ذکر قرب میں لازم ہے کامل احتیاط


صرف سدرہ تک رفاقت اور پھر عذر لطیف
عقل والو ہے ادائے عقل کامل احتیاط


بس اسی کو ہے ثنائے مصطفیٰﷺ لکھنے کا حق
جس قلم کی روشنائی میں ہو شامل احتیاط


نام پر توحید کے انکار تعظیم رسولﷺ
کیا غضب ہے کفر کو کہتے ہیں جاہل احتیاط


اس ادب نا آشنا ماحول میں اخؔتر کہیں
رہ نہ جائے ہو کے مثل حرف باطل احتیاط

Was this article helpful?
YesNo