Skip to main content
نعت

ادھر نہیں یا اُدھر نہیں ہے نبیﷺ کا جلوہ کدھر نہیں ہے

By August 18, 2021No Comments

ادھر نہیں یا اُدھر نہیں ہے نبیﷺ کا جلوہ کدھر نہیں ہے
مگر جمالِ نبیﷺ کو دیکھے بشر کی ایسی نظر نہیں ہے


وفور دیوانگی یہ کیسی یہ شور کیسا در نبیﷺ پر
وہ واقفِ راز دل ہیں اختر تجھے یہ شاید خبر نہیں ہے


فلک جو دیکھے مرے قمر کو تو بھول جائے قمر کو اپنے
چھپالے ابرِ سیاہ جس کو مرا قمر وہ قمر نہیں ہے


قسم خدا کی وہ دل نہیں ہے تری محبت ہے جو ہو خالی
وہ آنکھ بھی کوئی آنکھ ہے جو تری جدائی سے تر نہیں ہے


عجب ہے لطف غمِ نبیﷺ بھی نہیں اسے حاجت مداوا
دوا ہو جس درد کا مداوایہ ایسا دردجگر نہیں ہے


اٹھا دو للّلہ اٹھا دو للّلہ نقاب روئے قمر فشاں کو
دکھا دو جلوہ کہ تیرے بیمار کو امید سحر نہیں ہے


یہ مانتاہوں تری نظر میں مری نظر ہے قمر یہ لیکن
میں ان کے تلوؤں کو دیکھتا ہوں مری نظر چاند پر نہیں ہے


ہے مثل اپنے ہتھیلیوں کے زمانۂ ماضی و مضارع
وہ کون سی شئے ہے عقل والو جو ان کے پیش نظر نہیں ہے


خدا کے پیارے سے ہو کے بدظن خدا کو بھی کر لیا ہے دشمن
ارے منافق تجھے ہوا کیا ذرا بھی خوفِ سقر نہیں ہے


بربِّ کعبہ کریں گے خود رہبری تمھاری وہ غائبانہ
رہِ طلب میں تجھے اب اخؔتر ضرورت راہبر نہیں ہے

Was this article helpful?
YesNo