Skip to main content
نعت

آقاﷺ نے بلایا روضے پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا

By August 28, 2021No Comments

نعت شریف

آقا نے بلایا روضے پر

آقاﷺ نے بلایا روضے پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
کیں عرض تمنا رو رو کر کچھ یاد رھا کچھ بھول گیا
بخشش کی طلب کے جتنے بھی مضون تھے سارے ازبر تھے
گنبد پہ پڑی جب میری نظر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
باتیں تو بہت سی کرنی تھیں ہر غم کا مداوا کرنا تھا
تھیں میری نگاہیں جالی پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
میں بارگہہِ حمزہ میں گیا کہ اُن سے سفارش کرواؤں
تھیں اُن کی نگاہیں جب مجھ پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
کچھ عرض شہا سے کرنا تھی کچھ نذر وہاں پہ کرنا تھی
دربار نبیﷺ کا تھا وہ اثر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
جنت کی کیاری بھی دیکھی منبر کا نظارہ خوب کیا
جالی پہ حضوری کا منظر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
پھر اتنا دیا آقا نے مجھے اوقات سے میری بڑھ بڑھ کر
گنتا ہی رہا میں چُن چُن کر کچھ یاد رھا کچھ بھول گیا
آقا سے شفاعت جب مانگی شیخین سے بھی کچھ عرض کیا
تھے دونوں وہاں صدیق و عمر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
اشکوں کی لڑی تھی چہرے پر الفاظ کی مالا تھی لب پر
موتی جو لٹائے جی بھر کر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
قدمین سے پہنچا جالی پر رحمت کے دریچے کھلتے گئے
تھا میرا مقدر زوروں پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
حافؔظ ہے نبیﷺ کا دیوانہ سر کو جو لگایا چوکھٹ سے
پھر خوب ہی مانگا جھک جھک کر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا
(۲ شوال ۱۴۳۷ ھ ۲۵ جولائی ۲۰۱۶ء)