Lyrics

منقبت بحضور سید الشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ

By June 30, 2018 No Comments

‏‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎سَلاَم یَاسَیَّد الشُّھَدَأ

فوجِ اعدا میں گُھس کر سناں بازیاں
دُور ہی سے کبھی تیر اندازیاں
پرچمِ افتخارِ صفِ غازیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘
تضمین از مولانا اختؔرالحامدی

دین کے شیر کی معرکہ سازیاں
تیر کی بارشیں پھر فرس تازیاں
صفِ اعدا پہ وہ تیغ اندازیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘
تضمین از محمد عثمان اوؔج اعظمی

ابنِ اسود پہ وہ تیر اندازیاں
گاہے عتبہ پہ انکی سناں بازیاں
مرحبا مرحبا وہ سرافرازیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘
تضمین از صاحبزادہ ابوالحسن واحؔد رضوی

یہ تمنا یہ جذبہ یہ قربانیاں
اور یہ ذوقِ شہادت کی بے چینیاں
کافروں کی یہ میداں میں حیرانیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘
تضمین از ڈاکٹر سید ہلاؔل جعفری

جاں نثارانِ مولا کی جانبازیاں
اہلِ بطحا و طیبہ کی جانبازایاں
حق پسند اہلِ تقوٰی کی جانبازیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘
تضمین از حافظ عبدالغفّار حافؔظ

شیرِ حق دین کا ضیغمِ سخت جاں
عظمتِ شاہِ کونین کا پاسباں
دشمنانِ نبی کا مٹایا نشاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘
تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری

وہ رضاعی اخِ شاہِ کون ومکاں
وہ شجاعت کا لاریب کوہِ گراں
وہ شہامت کا ہر رَن میں اونچا نشاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘
تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری

سرگروہِ شہیدانِ حق بے گماں
وہ فلک مرتبت وہ سپہر آستاں
شیرِ حق اور شیرِ شہِ انس و جاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘
تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری


 

خیرالوری کے چچاحضرت امیر حمزہ
ہیں مومنوں کے آقا حضرت امیر حمزہ
خیر البشر کی عترت کے بعد اس جہاں میں
ہے کون آپ جیسا حضرت امیر حمزہ
عمران کے برادر شاہ نجف کے چچا
بیشک ہیں شاہ والا حضرت امیر حمزہ
بن کر رہے محافظ سلطان دو جہاں کے
اے جاں نثار آقا حضرت امیر حمزہ
کیجیئے میری شفاعت خالق سے روز محشر
اے اولیاء میں یکتا حضرت امیر حمزہ
سارے شہید جن کی دہلیز کے گدا ہیں
وہ ہیں ہمارے مولا حضرت امیر حمزہ
بعد از حضور و حیدر اسلام کے چمن میں
بےشک ہیں سب سے اعلی حضرت امیر حمزہ
دل سے بلال جن کا لکھتا ہوں میں قصیدے
وہ ہیں حجاب زہرا حضرت امیر حمزہ​


چراغ بزم صحابہ امیر حمزہ ہیں
حبیب سید بطحا امیر حمزہ ہیں

عقیل و جعفر و حیدر کے آپ ہیں چچا
حسن حسین کے دادا امیر حمزہ ہیں

رسائی کیوں نہ ہو اس کی در پیمبر تک
وہ جس بشر کا وسیلہ امیر حمزہ ہیں

اسی لیئے وہ نشانہ بنے لعینوں کا
کہ شاہ دیں کا سراپا امیر حمزہ ہیں

بھلا نہ دینا کبھی مصطفٰی کی حرمت کو
یہ کرتے ھم سے تقاضا امیرِ حمزہ ھیں

یہ قولِ احمدِ نوری سے بات ثابت ھے
نبی کے نور کا ٹکڑا امیرِ حمزہ ھیِں

بلال بات یہ واضح ہے ساری دنیا پر
عطا و لطف کا دریا امیر حمزہ ہیں

 


سرکار کی نظروں میں ایسا رتبہ ہے امیر حمزہ کا
دنیا تو کیا ہے جنت میں شہرہ ہے امیر حمزہ کا
ہیں عم نبی بھی بھائ بھی یہ خاص فضیلت ہے ان کی
سرکار دو عالم سے دہرا رشتہ ہے امیر حمزہ کا
سب اہل محبت کہتے ہیں طیبہ میں تربت ان کی ہے
مجھ کو تو لگا طیبہ ہی سارا ہے امیر حمزہ کا
ہر نعمت ان کی چوکھٹ پر جنت سے اترتی لگتی ہے
صد شکر کہ میں نے بھی دیکھا شہر امیر حمزہ کا
یہ ان کے کرم کی باتیں ہیں یہ خاص عنایت ہے ان کی
جو کچھ ہے میرے دامن میں وہ صدقہ ہے امیر حمزہ کا

یوم سید الشہدا،امیر طیبہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ و شہداۓ احد
خوب ایصال ثواب کیجیئے،اللہ رب العزت ان کے صدقے ہمیں جراٰت و شجاعت عطا فرماۓ، آمین۔